Thursday, February 3, 2011

دینے کی سائنس



دینے کی سائنس



قدرت کا اصول ھے "دینے والی چیز آپ کے پاس واپس لوٹ آتی ھے کئی گنا زیادہ ہو کر" ہمیں صرف صدقہ یا خیرات کے متعلق تو بتا دیا گیا ھے کہ تم اللہ کی راہ میں دو تو وہ تمیں دس گنا زیادہ کر کے واپس کرے گا۔لیکن میرے ادراک کے مطابق یہ معاملہ دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ بھی ھے ۔مثلا جب ہم کسی کی مدد کرتے ھیں اور اسے خو شی دیتے ھیں تو وہ خوشی کئی گنا زیادہ ھو کرواپس لوٹ آتی ھے۔ اور آپ جسمانی طور پر خوش نہیں ھوتے بلکہ آپ کی روح خوشی محسوس کرتی ھے۔ تو اس طرح آپ دوسرے ک مدد سے زیادہ اپنی مدد کرتے ھیں! 

جب آپ لوگوں سے بے لوث محبت کرتے ھیں جواب میں کچھ توقع کئے بغیر۔۔۔۔۔تو ان لوگوں کا خیال رکھنے اور انہیں آسانی دینے سے آپ اپنی روح کا خیال کرتے ھیں! کیونکہ اس وقت آپ اپنی روح کو پرسکون اور زیادہ آسودہ محسوس کرتے ھیں۔ 

مجھے لگتا ھے کہ اس میں قدرت کا انرجی کے بہاوٴ کا اصول کارفرما ھے۔کہ جب ہم کسی کو انرجی فراہم کرتے ھیں اسی خوشی دے کر،اس کی مدد کر کے ،تو وہ انرجی کئی گنا زیادہ ھو کر آپ کی طرف لوٹ آتی ھے۔ اور دوسروں کو خوشی دینے سے آپ اپنے اندر خوشی محسوس کرتے ھیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے نیوٹن نے کہا "عمل اور ردعمل برابر ہوتے ھیں لیکن مخالف سمت میں" ہاں لیکن یہاں مقدار کا فرق ضرور ھے۔

اس لیے جب آپ کو محبت درکار ھے تو آپ دوسروں سے محبت کریں۔اپنے اردگرد سے محبت کریں۔محبت خود بخود آپ کے اندر بہنا شروع ھو جائے گی۔

Tuesday, February 1, 2011

I Reflect

When I See My Mother,
Loving Me,
I Reflect,
God Loves Me More,
Than This Mother.

When I See My Father,
Thinking For Me,
I Reflect,
God Thinks For Me More,
Than This Father.

When I See My Friend,
Caring For Me,
I Reflect,
God Cares For Me More,
Than This Fiend.

When I See Some Child,
Attracting Me,
I Reflect,
God Is Attractive More,
Than This Child.

When I See Some Beauty,
On This World,
I Reflect,
God Is Beautiful More,
Than This Beauty.

Wednesday, January 26, 2011

فطرت ، بھوک ، رزق اور ذہنی ارتقا

 

فطرت،بھوک، رزق اور زہنی ارتقا

 

 

ان موجوں کی طرح انسان کی بھی عجیب زندگی ھے۔یہ بھی ھر لمحے اضطراب میں رہتی ھیں۔ ہر لمحے کی تڑپ انہیں چلتے رہنے پر مجبور کرتی ھی۔آتی ھیں،ساحل سے ٹکراتی ھیں اور پھر لوٹ جاتی ھیں۔اور پھر یہی چکر چلتا ھے۔اسی طرح انسان بھی ہر لمحے بےچین رہتا ھے۔ہم سب فطرتاٌ بےچین طبیعت کے مالک ھیں۔اور یہی بے چینی ھماری اکساہٹ،رغبت اور رجحان کا نتیجہ بنتی ھے۔ھم اس بےچینی کو ختم کرنے کے لئےمختلف ذرائع ڈھونڈتے ھیں،مختلف مشاغل اپناتے ھیں۔صرف اپنے اندر کو باہر لانے کے لئے۔۔۔۔اپنے اندر سے ملنے کے لئے۔۔۔۔خود کو مطمئن کرنے کے لئے۔۔۔۔۔ 

ذہنی ارتقا کا حصول انسان کے لیے بھوک کا باعث ھے۔اسے ذہنی ارتقا حاصل کرنا ہوتا ھے کیونکہ وہ اس کی ضرورت ھے خود کو مطمئن کرنے کی۔اور جب وہ اس کے حصول میں جت جاتا ہے تو وہی ایک طرح کی بھوک بن جاتی ھے۔اسے ذہنی ارتقا حاصل کرنا ہوتا ھے کیونکہ وہ  تواس کی فطرت کا لازمی حصہ ھے۔اور کیونکہ ہر ایک کی فطرت الگ ھے تو پھر بھوک بھی مختلف قسم کی ہوتی ھے۔کوئی پیسے کا بھوکا ہوتا ھے،کوئی خود کو بہت آگے لے جانا چاہتا ھے،کوئی فنکاروں میں اپنا نام پیدا کرنا چاہتا ھے،کسی کو بہت بڑا بزنس مین بننا ھے،کسی کو اپنے ملک اور قوم کے لئے بہت کام کرنا ھے، کسی کو لیڈر بننا ھے،کسی کو جنگجو بننا ھے،کسی کو علم کی پیاس ھے اور کسی کو خود سے جیتنا ھے! 

اس لئے رزق صرف وہ نہیں ہوتا کہ دو وقت کا کھانا،بلکہ ہر وہ شے رزق ھے جو رب تعالٰی نے آپ کو بہتر محسوس کرانے کے لئے بنائی ھے۔حسن آنکھوں کا رزق ھے،موسیقی کانوں کا رزق ھے،خوشبو ناک کا رزق ھے اور ہوا آپ کی سانوں کا رزق ھے۔ اور ان سب چیزوں سے حاصل ھونے والی آسودگی اور محبت آپ کی روح کا رزق ھے۔سوچیئے اگر آپ یہ سب حاصل یا محسوس نہ کر پائیں تو کیا آپ خود کو مکمل طور پر بہتر محسوس کر پائیں گے؟ جب ہم وہ چیز حاصل کرتے ھیں جسے ھم پسند کرتے ھیں تو ہمارے اندر مثبت احساس پیدا ہوتا ھے۔ہم خود کو بہتر محسوس کرتے ھیں اور اپنے اندر ایک انرجی محسوس کرتے ھیں۔یہی انرجی ہمیں خود کو بہتر محسوس کرواتی ھے۔۔اور یہ خود کو بہتر محسوس کرنا ہی ھمارے ذہنی ارتقا کا حصول ھے۔ لہٰزا یہ فطرت ، بھوک ، رزق اور ذہنی ارتقا سب آپس میں جڑے ھوئے ہیں۔جن کے ملے سے ایک انسان وجود میں آتا ھے۔ تڑپتا ھوا، اضطراب کا مارا ہوا اور اپنے رزق کی تلاش میں پھرتا ھوا۔۔۔۔۔۔

میری قوم کا ایک عام انسان




امیدکے دیئے پر جلتابجھتاانسان
 
زندہ رہنے کی کوششوں میں تھکا انسان
 
دنیا کی رنگینیوں سے سہما انسان 

اپنے ارد گرد سے تنگ آیا انسان
 
زندگی کی دوڑ سے ہارا انسان
 
اپنے آپ سے الجھا،بےبس انسان 

میری قوم کا ایک عام انسان!

عکسی


 


وہ وقت کو لمحوں میں قید کرنے کا فن جانتی تھی۔ہمارا المیہ یہ ھے کہ ہم زندگی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اوراسی تلاش میں طےشدہ وقت ختم ہو جاتا ہے۔لیکن وہ زندگی کو جیتی تھی۔وہ شکایتوں کے فن سے نا آشنا تھی کہ ہم جیسے لوگ تو اس کے سوا کچھ کرتے ہی نھیں۔وہ دکھنے میں ایک لاابالی سی لڑکی تھی۔لاابالی اس طرح کہ اسے نئی چیزیں کرنے کا خوف نھیں تھا۔وہ لوگوں اور نئی سرگرمیوں میں داخل ہونے سے خوفزدہ نھیں ہوتی تھی۔لھٰزا خود میں آزاد تھی۔ورنہ ایک مڈل کلاس آدمی نے تو خود کو ایسی بندشوں میں جکڑا ہوتا ہے کہ اس کی خود پر عائد کردہ پابندیاں اور جھجک ہی اس کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔وہ جینے کا فن جانتی تھی اس لئے وقت اس سے کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ شائد وقت سے یہ برداشت نہ ہو پایا کہ کوئی اسے مات دے دے اس لئے اس نے اسے اپنے پیروں تلے روند ڈالا۔وہ لمحوں میں جینے کی عادی تھی اس لئے ہر لمحہ اس کے لئے ایک یادگار بن کر گزرتا۔اور یہی زندگی جینے کا اصلی فن ہے۔کہ ہم لوگ تو زندگی گزارتے ہیں لیکن وہ زندگی جیتی تھی۔اور یہی ہم میں اور اس میں فرق ہے۔اور اسی لحاظ سے وہ منفرد تھی۔

انسان


تم جو کہتے تھے کہ میں آزاد ہوں

تم تو اپنی ہی ذات میں قید نکلے

اپنی ہی خواہشات کے اسیر نکلے

اپنی ہی دنیا کے قیدی نکلے

خود پیدا کردہ زنجیروں کے باسی نکلے

وہ کہاں گیا تمہارا آزادی کا دعوی؟

قصور تمہارا نہیں

قید تو ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ھے

ہم قید کر دیئے گئے ہیں

ازل سے اپنی ذات میں بند کر دیئے گئے ھیں

ہم آزاد ہو ہی نہیں سکتے

ہم اپنی فطرت میں قید کر دیئے گئے ھیں

اور فطرت سے کبھی آزاد نہیں ہوا جاتا!

اے کاش کہ میں آزاد پنچھی ہوتا


اے کاش کہ میں آزاد پنچھی ہوتا


ہواوٴں میں اڑنا میرا مقدر ہوتا


بےفکری کے مزے لوٹنا میری زندگی ہوتا


تضاد سے پاک میرے خیال ہوتے


نفرت سے عاری میرا دل ہوتا



علم کا مجھ پر بوجھ نہ ھوتا



سوچ کی مجھ پر وحشت نہ ہوتی



زندگی اپنی فکر کے جھمیلوں میں نہ پڑتی



سنگیت اپنے فضاوٴں میں بکھیرتا



نتائج سے عاری میرا ذھن ہوتا



اے کاش کہ میں آزاد پنچھی ہوتا